نئی دہلی،4نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) نربھیا گینگ ریپ کیس کے 4 قصورواروں نے پھانسی کی سزا سے بچنے کے لئے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔چاروں مجرموں نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔سپریم کورٹ سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے ڈیڑھ سال بعد بھی سزا سے دور ہیں۔تہاڑ انتظامیہ نے نربھیا کے قصورواروں کو رحم کی درخواست دائر کرنے کے لئے آخری 7 دن کا وقت دیا تھا، جس کی میعاد آج پوری ہو رہی ہے۔نربھیا کے 3 گنہگاروں اکشے،پون اور ونے آج سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔اکشے سپریم کورٹ میں ریویو پٹشن داخل کرے گا جبکہ ونے اور پون کیوریٹو پٹیشن دائر کریں گے۔ابھی تک چوتھے مجرم مکیش کے بارے میں معلومات نہیں ملی ہے کہ وہ رحم کی درخواست داخل کرے گا یا نہیں۔فیصلہ سنائے جانے کے حکم کے بعد بھی اب تک سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔اس کی وجہ قانونی دفعات کی کمزوری ہے۔سزا سنائے جانے کے تقریبا ڈیڑھ سال بعد قصورواروں کو نوٹس دے دیئے ہیں کہ اگر وہ سزائے موت میں کوئی رعایت چاہتے ہیں تو 7 دن کے اندر اندر صدر کے یہاں رحم کی درخواست دائر کریں۔
نربھیا کے والد نے بتایا کہ گزشتہ سال 9 جولائی کو سپریم کورٹ نے 3 مجرموں کی ریویو پٹشن مسترد کر دی تھی۔اس کے بعد سے مجرموں نے سپریم کورٹ میں کیوریٹو پٹشن دائر نہیں کی اور چوتھے نے ریویو پٹشن بھی داخل نہیں۔کیوریٹو پٹشن دائر کرنے کے لئے اگر میعاد نہیں ہے تو اس کا فائدہ مجرموں کو کیسے دیا جا سکتا ہے؟ ان کا خیال ہے کہ گزشتہ سال جب سپریم کورٹ نے مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی، تبھی متعلقہ اتھارٹی کو مجرموں رحم یا کیوریٹو پٹشن دائر کرنے کے لئے ایک وقت کی حد دینی چاہئے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور ڈیڑھ سال گزر گئے۔